بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ گذشتہ دنوں دہشت گرد امریکی دشمن کی جانب سے ایران کے بعض غیرملکی بنیادی ڈھانچوں پر حملوں کے پیش نظر، مسلح افواج کے ٹارگٹ بینک میں تبدیلی کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی چنانچہ عمان کی الدقم بندرگاہ میں امریکی تنصیبات پر حملہ، ایران کی ذاتی دفاع کی حکمت عملی میں تبدیلی کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔
دوسری اور آخری قسط:
بنیادی ڈھانچوں کی جنگ کا مناسب جواب
سیاسی تجزیہ کار 'قیس قریشی' کے مطابق، اگر دشمن پڑوسی ملک کی سرزمین سے ہمارے شہروں، ہوائی اڈوں، سڑکوں اور بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنا رہا ہے تو ایران صرف پڑوسی ریاستوں میں موجود دشمن کے اڈوں تک محدود رہنا درست نہیں۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے امریکی حملوں کے جواب کے تیسرے مرحلے میں عمان کے جنوب مشرقی ساحل پر واقع اسٹراٹیجک بندرگاہ الدقم کو شدید میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا، جو آبنائے ہرمز سے باہر واقع ہے۔ تہران اور مسقط کے درمیان اچھے تعلقات کے باوجود، اس حملے سے عیاں ہوتا ہے کہ ایران دشمن کو کسی بھی مقام پر جواب دینے میں ذرا سی بھی نرمی نہیں کرے گا اور رعایت نہیں دے گا۔ ایران کی فائرنگ کا دائرہ قطر میں امریکی اڈوں تک پھیل گیا ہے اور کئی بار اردن میں بھی دشمن کے بعض اڈے نشانہ بنے ہیں، جو مسلح افواج کے ٹارگٹ بینک کی تجدید کی علامت ہے۔
علاقائی اہداف کا وسیع بینک
اسٹراٹیجک امور کے ماہر 'مہدی محمدی' کے مطابق، ایران کے پاس امریکی اور علاقائی انفراسٹرکچرل اہداف کی ایک کثیر تعداد ہے، جن میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ڈھانچے، بجلی، گیس اور واٹر ڈی سیلینیشن پلانٹس شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران تیل برآمد نہیں کر پائے گا تو کسی دوسرے فریق کو بھی برآمد نہیں کرنا چاہئے، چنانچہ ایران کے غیر متناسب جوابات میں دشمن کے تیل کے ذخائر اور بنیادی اشیاء کو نشانہ بنانا شامل ہو سکتا ہے۔
ایران نے 12 روزہ اور خاص طور پر 40 روزہ جنگوں میں ثابت کیا ہے کہ وہ پورے خطے میں دشمنوں کے اسٹراٹیجک اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ امریکہ جو ڈھانچوں کی جنگ کی تمہیدات فراہم کر رہا ہے، اسے یقیناً مناسب جواب ملے گا، تاکہ امریکہ کو اپنے اس اقدام پر ندامت ہو اور واشنگٹن کے علاقائی اتحادیوں کا ادراک بھی بدل جائے اور وہ بالآخر ہوش کے ناخن لیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: علی رضا محمدی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ